کراچی مضر صحت کھانے والے 5بچوں کو آہوں اور سسکیوں میں خانوزئی میںسپردخاک کردیا ، بچوں کی پھوپھی میں جاں بحق

0

کراچی میں مبینہ مضرِ صحت کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے والے ضلع پشین کے رہائشی فیصل اخوندزادہ کے 5بچوں کوآہوںاور سسکیوں میں خانوزئی میںسپردخاک کردیاگیا دوران علاج اسپتال میں دم توڑنے والی بچوں کی پھوپھی کی تدفین نعش کے پہنچنے کے بعد کی جائے گی ۔اہلخانہ کے مطابق کراچی میں مبینہ مضرِ صحت کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے والے ضلع پشین کے رہائشی فیصل اخوندزادہ کے 5بچوں عبدالعلی، 4سالہ عزیز فیصل، 6سالہ عالیہ، 7سالہ توحید اور 9 سالہ صلویٰ کی نمازِ جنازہ پشین کے علاقے خانوزئی میں ادا کر دی گئی جس میں علماءاکرام ،صوبائی وزراء،اراکین صوبائی اسمبلی ،قبائلی وسیاسی شخصیات سمیت اہلیان علاقہ کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر وصوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ،صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی ،مشیربرائے ایکسائز اینڈٹیکسیشن ملک نعیم خان بازئی ،پاکستان تحریک انصاف کے مبین خان خلجی ودیگر شامل ہیں بلکہ بچوں کی تدفین کے موقع پر خانوزئی تحصیل بازار میں تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہی ۔دوسری جانب اہل خانہ کے مطابق جاںبحق ہونے والے بچوںکی پھوپھی (بینا بدرالدین بھی ہفتہ کی صبح 5 بجے کوکراچی میں دوران علاج جان کی بازی ہار گئی وہ گزشتہ دن سے موت وزیست کے کشمکش میں مبتلاءتھی اہل خانہ کے مطابق بینابدرالدین کی میت کو ہفتے کی صبح 7 بجے خانوزئی کیلئے روانہ کردیاگیاہے جن کی نعش پہنچنے کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کی جائےگی ۔یاد رہے کہ ضلع پشین سے تعلق رکھنے والی فیملی جمعرات 21 فروری کی شب کراچی پہنچی تھی۔ فیملی نے صدر کے ایک گیسٹ ہاوس میں قیام کے دوران مقامی ریسٹورنٹ سے کھانا منگوایا جس کو کھانے کے بعد بچوں سمیت انکی 28 سالہ پھوپھی کی حالت بھی بگڑ گئی تھی۔ترجمان آغاز خان اسپتال نے بتایا تھا کہ تمام افراد کی ہلاکت مضرِ صحت کھانا کھانے سے ہوئی، متاثرہ افراد کو رات گئے اسپتال لایا گیا تھا مگر کوئی بھی بچ نہ سکا جبکہ خاتون کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایم ایل او کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ سامنے آئے گی۔متاثرہ فیملی کراچی میں قصر ناز(گورنمنٹ لاجز)میں مقیم تھی اور بچوں کا والد فیصل اخوند زادہ پیشے سے زمیندار ہے۔ جاں بحق ہونے والے 5 بچوں میں ڈیڑھ سالہ عبدالعلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سالہ عالیہ، 7 سالہ توحید، اور 9 سالہ صلوی شامل ہے۔پولیس کے مطابق سندھ فوڈ اتھارٹی نے ریسٹورنٹ سے کھانے اور قصرناز سے نمونے حاصل کر لیے ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے صدر میں واقع ریسٹورنٹ سیل کرکے 18 افراد کو حراست میں لیا ہے جن کے بیانات لیے جا رہے ہیں۔پولیس نے والد کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔ بچوں کے والد نے بتایا کہ سفر میں مختلف مقامات پر کھانا کھایا اور آخر باری صدر کے ریسٹورنٹ کا کھانا کھایا تھا۔سندھ فوڈ اتھارٹی کے افسران کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹ سے باسی بریانی ملی جس کے سیمپلز بھی لے لئے گئے ہیں حکام نے قصر ناز جہاں فیملی ٹھہری تھی وہاں سے بھی بریانی، دودھ ودیگر چیزوں کے نمونے حاصل کرلیئے اور گاڑی سے بھی شواہد جمع کئے صوبائی وزیرِ بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ پولیس کی ٹیم کو تفتیش کےلئے خضدار روانہ کردیا ہے دریں اثنا ءیہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جس ریسٹورنٹ سے بریانی خریدی گئی، اسے بھی مشہور ریسٹورنٹ سے بریانی سپلائی ہوتی تھی سندھ اتھارٹی نے دوسرے ریسٹورنٹ کے کچن کو بھی سیل کرکے وزیرِ اعلی سندھ کو ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے ریسٹورنٹ کے مالک عابد حسین نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ہراساں نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ ذاتی مسئلے پر پنجاب آیا ہوا ہوں، 5 بچوں کی اموات انتہائی افسوسناک ہے، واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ہم ہر قسم تعاون کریں گے جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک ہراساں نہ کیا جائے۔اس کے علاوہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ابتدائی رپورٹس میں اس بات کاانکشاف کیاگیاہے کہ جاںبحق ہونے والے بچے اور ان کی پھوپھی جس کمرے میں ٹھہرے تھے وہاں کیڑے مار دوا بھی موجود تھیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.