The news is by your side.

ریلوے میں تعیناتیوں کے عمل میں سیاسی مداخلت بند کیا جائے ، سلمان،ارشدیوسفزئی

0

سابق رکن قومی اسمبلی و مرکزی صدر ریلوے ایمپلائز پریم یونین ( سی بی اے ) حافظ سلمان بٹ ودیگر نے کہا ہے کہ محکمہ ریلوے میں خالی 20 ہزار سے زائد آسامیوں میں سے 50 فےصد پر ریلوے ملازمین کے بچوں کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے، ریلوے میں تعیناتیوں کے عمل میں سیاسی مداخلت کو بند اور ریلوے ہاﺅسنگ سوسائٹیز میں بے قاعدگیوں کا نوٹس لیا جائے ، عید الفطر کے بعد حکومت اور انتظامیہ کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں ڈویژنل صدر ریلوے ایمپلائز پریم یونین کوئٹہ ڈویژن ارشدیوسفزئی ، ڈویژنل جنرل سیکرٹری قدرت اللہ بڑیچ ، ڈویژنل چیئرمین ملک اکرم بنگلزئی ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری عبدالمالک اچکزئی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ ریلوے ایمپلائز پریم یونین کے ڈویژنل صدر ارشد یوسفزئی نے مرکزی صدر حافظ سلمان بٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی صدر کا کوئٹہ آنے کا مقصد کوئٹہ جنرل کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنا اور چارٹر آف ڈیمانڈ کے حوالے سے ملازمین کسے مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینا تھا جس پر ہم سب مرکزی صدر کے بے حد مشکور ہےں کہ وہ آئے اور آج ہمارے ساتھ یہاں موجود ہیں ۔ مرکزی صدر ایمپلائز یونین حافظ سلمان نے کہا کہ ریلوے میں اکثر پروجیکٹ کے لئے ملازمین کو بھرتی کیا جاتا ہے جنہیں 10 سے 12 سال تک اپنی خدمات انجام دینے کے بعد فارغ کردیا جاتا ہے جو ان کے ساتھ سراسر ظلم ہے کیونکہ اتنے بڑے عرصہ کے بعد وہ اوور ایج ہوجاتے ہیں کسی بھی سرکاری محکمے میں وہ تعیناتی کے اہل نہیں رہتے ، حالانکہ دس بارہ سالوں میں وہ محکمے کے کام کو اچھی طرح سے سمجھ جاتے ہیں اس کے باوجود بھی انہیں فارغ کردینا صحیح نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ جتنی بھی مستقل آسامیاں پیدا کی جائے ان پر سب سے پہلی ترجیح پروجیکٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم پیکج کے تحت جو بھی ملازم ملازمت کے دوران فوت ہوجائے ان کے ایک بچے کو محکمے میں نوکری دی جائے گی مگر اب ان کے بچوں صرف 2 سال کے لئے بھرتی کردیا جاتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ انہیں سکیل 9 اور 10 تک ہی محدود رکھا گیا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے فوت شدہ ملازمین کے بچوں نہ صرف مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے بلکہ انہیں ان کی تعلیمی اسناد کے مطابق پوسٹ پر بھرتی کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ریلوے میں 20 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے بعض ملازمین کو 8 گھنٹے کی بجائے 18 گھنٹے ، 24 گھنٹے ڈیوٹی دینی پڑ رہی ہے بلکہ اگر ایک ملازم چھٹی پر چلا جائے تو دوسرے کو 72 گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹی کرنا پڑتی ہے جو کہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے اس لئے ان پوسٹوں پر جلد از جلد تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 50 فےصد پر ملازمین کے بچوں جبکہ 50 فےصد پر دیگر کو میرٹ پر تعینات کیا جائے محکمے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کا عمل اور مداخلت بند کیا جائے ۔ انہوں نے ریلوے سوسائٹیز میں بے قاعدگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام فوری طور پر نوٹس لیں اور پہلے کی طرح ڈی ایس کو ریلوے سوسائٹیز کا صدر مقرر کیا جائے کیونکہ اب سوسائٹی کی انتظامیہ کی جانب سے اقرباءپروری و دیگر کے ذریعے مبینہ طور پر باقاعدگیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا تدارک ہونا چاہےے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم عید الفطر کے بعد حکومت اور انتظامیہ کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کررہے ہیں جس میں ریلوے ملازمین کو درپیش مسائل کے حل سمیت دیگر مطالبات شامل ہوں گے جس سے ریلوے ملازمین کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی اگر چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد نہ ہوا تو یونین احتجاج کی راہ اپنانے پر مجبور ہوگی بلکہ اس سلسلے میں احتجاج کے تمام ذرائع استعمال کریں گے ۔

You might also like