تاریخ گواہ ہےنوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی

ً

کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بلوچستان یونیورسٹی ہراسگی اسکینڈل کیخلاف اور اس میں ملوث ملزمان کی گرفتارں اور کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ایک عظیم الشان وطویل ترین احتجاجی ریلی ہفتہ کی صبح 10 بجے سریاب کسٹم سے برآمدہوئی جو سریاب روڈ سے ہوتی ہوئی بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے دھرنے کی شکل اختیار کرگئی اور دھرنے میں ہزاروں پارٹی کارکن، خواتین سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے ہراسگی کے واقعات کیخلاف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے ،تعلیمی اداروں میں طلباءتنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں ، بلوچستان کی قومی روایات کی پامالی نامنظور نامنظور تعلیمی اداروں سے سیکورٹی فورسز کے انخلاءکو یقینی بنانے سیکورٹی فورسز کے نام پر بلوچستان یونیورسٹی سمیت دیگر تمام تعلیمی اداروں میں علم دشمن پالیسیاں نامنظور نامنظور تعلیمی اداروں میں خوف وہراس کے ماحول کو ختم کرکے فورسز کے فوری انخلاءکو یقینی بنایا جائے اور دیگر نعرے درج تھے ۔ بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے دھرنے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ، بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری میر نذیر احمد بلوچ، پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری اور بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی،مرکزی لیبر سیکرٹری چیئرمین منظور بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری ورکن بلوچستان اسمبلی زینت شاہوانی، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے اراکین نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، پبلک کاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو، غلام نبی مری، چیئرمین جاوید بلوچ، ملک عبدالرحمن خواجہ خیل، رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار، میر خورشید جمالدینی، رکن قومی اسمبلی پروفیسر ڈاکٹر شہناز نصیر بلوچ، حاجی بہادر خان مینگل ،جمیلہ بلوچ، امبر زہری،میر عبدالغفور مینگل، میر ہمایوں عزیز کرد، حاجی وزیر خان مینگل، قاری اختر شاہ کھرل، میر مراد مینگل،بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، وائس چیئرمین خالد بلوچ، رکن بلوچستان اسمبلی احمدنواز بلوچ، آغا خالد شاہ دلسوز، ہزارہ سیاسی کارکنان کے سربراہ طاہر ہزارہ،بلوچ طلباءایکشن کمیٹی کے مارنگ بلوچ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالمنان کاکڑ ، پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے صدر ماما عبدالسلام بلوچ، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کے کامریڈ نذر محمد بلوچ، ٹکری شفقت حسین لانگو، چیئرمین واحد بلوچ،ڈاکٹر رمضان ہزارہ ودیگر نے بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والے ہراسگی اسکینڈل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اسکینڈل بلوچستان کی تاریخ میں ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے جس نے پورے بلوچستانی عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کیا ہے یہ دلخراش واقعہ ایک گھناﺅنی سازش ہے تاکہ صوبے میں ہمارے طلباءوطالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرکے انہیں تعلیم کے زیور سے محروم رکھ کر پسماندگی، جہالت،احساس محرومی اور ناانصافیوں کی طرف دھکیلا جاسکے کیونکہ حکمرانوں کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ بلوچستان کے طلباءوطالبات تعلیم کے شعبہ میں دلچسپی لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور ترقی و خوشحالی تعلیم کے بغیر نامکمل ہے وہ ہماری ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد اور راہوں کو بند کرنے کیلئے ہمارے تعلیمی اداروں کیساتھ گھناﺅنا کھیل کھیل رہے ہیں اس پر کسی بھی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کرینگے اور نہ تعلیمی اداروں سے کنارہ کشی اختیار کرینگے قلم اور کتاب کو ہتھیار سمجھ کر تمام سازشوں کو بے نقاب کرینگے ۔ مقررین نے کہا کہ اس واقعہ کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں آج نہیں کئی سالوں پہلے اس گھناﺅنے کھیل کو تعلیمی اداروں میںشروع کیا گیا جب سے ہمارے تعلیمی اداروں کو سیکورٹی کے نام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا گیا اس دن سے آج تک ہونے والے واقعات کی کڑیاںوہاں سے ملتی ہیں اور وہ مرضی منشاءکے تحت تعلیمی ماحول کو خراب کرنے خوف وہرا س پھیلا کر اپنے مذموم عزائم کو تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ آج کی ریلی میں بڑی تعداد میں خواتین سفید ریش اور نوجوانوں طلباءوطالبات کی شرکت نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہاں کے عوام اپنی قومی روایات اجتماعی وقار کو کسی بھی صورت مسخ نہیں ہونے دینگے اور قومی وجود شناخت بقاءاور سلامتی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ، بی این پی کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی بلوچستان میں بلوچستانی عوام کو مشکلات ناانصافیوں کا سامنا ہوا اس وقت بی این پی نے ان مظالم ناانصافیوں کیخلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح مظالم کیخلاف آواز بلند کی اور یہاں کے عوام کو مشکل اور تکالیف نامساعد حالات میں کبھی تنہا ءنہیں چھوڑا ۔ مقررین نے کہا کہ جب بھی تعلیمی اداروں میں گھناﺅنی سازشیں شروع کی گئیں اس وقت یہاں کی طلباءتنظیموں بشمول بی ایس او نے آواز بلند کرتے ہوئے ان مسائل کی طرف توجہ دلائی تو حکمرانوں نے طلباءتنظیموں کے موقف کو سننے کی بجائے نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں آج ہمارے تمام تعلیمی ادارے شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ آج ہم جس یونیورسٹی کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کررہے ہیں یہ ادارہ ہمارے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے جس کی بنیاد ہمارے عظیم سیاسی رہنماءسردار عطاءاللہ خان مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مرحوم میر گل خان نصیر نے رکھی اس ادارے سمیت تمام تعلیمی اداروں کی سیاسی و جمہوری انداز میں حفاظت کرینگے اور اس سے بڑھ کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں گے کیونکہ اپنی ترقی و خوشحالی اور قومی وجود کو برقرار رکھنے کا واحد ذریعہ تعلیم کا حصول ہے ۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے قومی سیاسی ایشوز کو ہمیشہ نظر انداز اور انہیں تبدیل کرکے غیر ایشوزکا سہارا لیکر بلوچستان کو مذہبی منافرت فرقہ واریت اور دہشتگردی کی بھینٹ چڑھایا گیا تاکہ یہاں کے لوگوں کی توجہ اپنے بنیادی حقوق قومی روایات کی بحالی اور بنیادی انسانی حقوق ترقی و خوشحالی تعلیم صحت روزگار قومی واک واختیار کی جدوجہدسے ہٹاکر حکمران آمرانہ پالیسیوں،ڈمی پارٹیوں اور عناصرکے توسط سے توسیع پسندانہ پالیسیوںکو فروغ دے سکیں اورانہوں نے ہمیشہ بلوچستان کی حقیقی قیادت اور پارٹیوں کو زیر کرنے کیلئے سیاسی کارکنوں کی قتل وغارت گیری ، ٹارگٹ کلنگ ،مذہبی منافرت ، نسلی تعصب کا سہارا لیا اور صوبے کو پسماندگی جہالت، غربت ، نفرت ، تعصب اور تنگ نظری کی طرف دھکیلا، مقررین نے کہا کہ افسوس کیساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے اس سنگین جرم میں ملوث وائس چانسلر کو انکی مدت ملازمت میں دو مرتبہ توسیع دیکر اپنے دور حکومت میں اپنے من پسند لوگوں کو نوازا میرٹ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں اگر اس وقت یہ جماعتیں نااہل کرپٹ انتظامیہ کو تحفظ نہ دیتے تو آج یونیورسٹی میں پیش آنیوالے سانحہ کا ہمیں سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی یہاں کی تمام اقوام جن میں بلوچ، پشتون، ہزارہ، سیٹلرزاور صوبے میں بسنے والے تمام اقوام کی نمائندہ جماعت ہے جو بلوچستان کے غم وخوشی موت اور زیست میں شریک ہیں ان کے بنیادی حقوق کے دفاع عزت نفس کی حفاظت کی ذمہ داری پارٹی نے اٹھا رکھی ہے اور یہاں کے عوام نے جس انداز میں پارٹی پر اعتماد کیا ہے اسے کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ہماری سیاست اور جدوجہد کا مقصد یہاںکے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور پارٹی کارکنوں نے جس انداز میں قربانیاں دی ہیں اسکا بنیادی سبب بھی یہ ہے پارٹی نے کبھی بھی اصولوں پر سودا بازی نہیں کی نہ کھبی مصلحت پسندی کا شکار ہوئے ہمیشہ بلوچستان کے اجتماعی قومی معاملات اور دیرینہ مسائل کوسامنے رکھتے ہوئے وقتی مراعات مفادات شراکت اقتدار کو رد کرتے ہوئے اقتدار کی بجائے اقدار کو ترجیح دیکر نیپ کے بعدقومی حقوق کی جدوجہد کیلئے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ مقررین نے کہا کہ اس واقعے میں صرف وائس چانسلر نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ ملوث ہے جو بلوچستان کو تعلیمی لحاظ سے پسماندہ رکھ کر استحصالی پالیسیوں لوٹ مار کرپشن کو تحفظ دیاجارہاہے ، مقررین نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے غفلت پر پارٹی کوہ سلمان سے لیکر جیونی کے ساحل سمیت پورے بلوچستان میں شدید انداز میں احتجاج کریگی جس کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی ۔مقررین نے کہا کہ اسکینڈل پر حکومت وقت کی خاموشی اور سست روی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس واقع میں ملوث ملزمان کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے ، مقررین نے کہا کہ بلوچستان ہماری ماں دردتی ہے اور اس درتی کے فرزنداپنے ننگ وناموس بقاءشناخت وجود کے لیے بہت حساس رہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ انگریز کے دور سے لیکر آج تک صوبے میں آباد قوموں نے سب کچھ برداشت کیا لیکن اپنے قومی ننگ وناموس غیرت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی اس سلسلے میں ضرورت پڑنے پر اپنی جانوں کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔ جس کی واضح مثال 2005ءکو ڈیرہ بگٹی میں بلوچستان کے عظیم سپوت شہید نواب اکبر خان بگٹی نے ایک خاتون کی عزت کی خاطر نبرد آماءقوتوں کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اپنی جان کی قربانی دیکر بلوچ اور بلوچستان کی قومی تاریخ کو زندہ رکھا اور ثابت کیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیںکسی کو اپنی روایات پامال کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔مقررین نے کہاکہ واقع سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان پارٹی اجلاس میں طے کیا جائیگا ۔ اس موقع پر بی این پی ضلع مستونگ ضلعی صدر میر عبداللہ جان مینگل، بی این پی بولان کے ضلعی آرگنائزر اداکریم بلوچ، بی این پی نوشکی کے ضلعی صدر میر عطاءاللہ مینگل، بی این پی قلات کے ضلعی صدر میر قادر بخش مینگل نے بھی خطاب کیا ۔

Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close