سیندک ملازمین کا احتجاجی دھرنا 7ویں میں داخل

سیندک پروجیکٹ انتظامیہ کی ہٹ دھرمی بدستورجاری ہے پروجیکٹ سے نکالے گئے 35ملازمین کاسخت سردی میں سیندک کراس پردھرنا ساتھویں روزمیں داخل،بے دخل ملازمین کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کی طرف سے کسی نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیاجب تک ہمیں دوبارہ بحال نہیں کیاجاتاتب تک ہمارادھرنا جای رہیگا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزسیندک پروجیکٹ کی طرف سے ملازمین کمیٹی کے سربراہ محمدیوسف محمدحسنی کو جبری برطرف کیاگیااوردیگرملازمین نے اپنے ساتھی کے جبری برطرفی کے خلاف شدیداحتجاج کیاگیاجنہیں کمپنی نے برطرف کیاان برطرف ملازمین نے کمپنی کی ملازم کش پالیسی کے خلاف تفتان کے قریب سیندک کراس پردھرناشروع کردیامگرپروجیکٹ انتظامیہ کی طرف سے ان سے کسی قسم کاکوئی رابطہ نہیں کیاگیاچندماہ قبل سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے والے مزدورملازمین نے بونس اور دیگرمطالبات کے حق میں احتجاج کیاتھاجس میں سیندک مینجمنٹ کی طرف سے ان کے ساتھ کامیاب مذکرات کیاگیاکمپنی اور ملازمین کی جانب سے مشترکہ چاررکنی کمیٹی بنائی گئی تاکہ کمیٹی ملازمین اورکمپنی کے درمیان ملازمین کے درپیش مسائل پر بات کرسکیں کمیٹی کے سربراہ محمدیوسف محمدحسنی نے ملازمین کے کسی مسلے پر کمپنی سے بات کی تھی جسکی پاداشت میں انہیں گرفتار کرکے زبردستی کمپنی سے نکال دیا جس پر اس کے دیگرساتھیوں نے احتجاج کرتے ہوئے احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے تاحال ایم آر ڈی ایل اپنی ہٹ دھرمی پہ کائم اور تاحال نکالے گئے ملازمین کو بحال نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی رابطہ کیا جارہا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close