The news is by your side.

کان مہترزئی میں مسافر کوچ اور ایرانی تیل لے جانے والی پک اپ میں ہولناک تصادم کے نتیجے میں 15افراد جاں بحق

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

- Advertisement -

 

 

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ کے علاقے کان مہترزئی میں مسافر کوچ اور ایرانی تیل لے جانے والی پک اپ میں ہولناک تصادم کے نتیجے میں 15افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔جاں بحق ہونے والوں میں خواتین،بچے اور مرد شامل ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان،وزیر داخلہ بلوچستان سمیت صوبے کی مختلف سیاسی،مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے واقعہ پر دلی رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ہولناک حادثے کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایرانی ڈیزل کی غیر قانونی نقل وحمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہاہے کہ ایرانی تیل کی نقل وحرکت پر پابندی کے باوجود تیل بردار گاڑی مسلم باغ تک کیسی پہنچی۔اس سلسلے میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ انہیں پیش کی جائے۔اس سے قبل بھی تیل بردار گاڑیوں کے حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن طارق زہری سمیت متعدد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔جمعہ کے صبح قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ کے علاقے میں مسافر بس اور ایرانی تیل لے جانے والی پک اپ میں خوف ناک تصادم کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں مسافر بس اور گاڑی میں سوار افراد شعلوں کے لپیٹ میں آگئے اور بس میں سوار ایک مسافر کے علاوہ تمام مسافر جھلس کر جان کی بازی ہار گئے بلکہ پک اپ سواران کی لاشیں جلنے کے باعث ناقابل شناخت ہوچکی ہے،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ قلعہ سیف اللہ موقع پرپہنچی اور انہوں نے لاشوں کو بس اور پک اپ سے نکال کر شناخت کیلئے کوئٹہ روانہ کردیاہے،تحصیل دار دریاخان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو بس اور پک اپ سے نکال کرکوئٹہ بھجوادیاگیاہے جبکہ اس سلسلے میں مزید کارروائی جاری ہے،بس میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے افراد میں خواتین،بچے اور مرد شامل ہیں۔اب تک قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنے والے امین اللہ ولد ملا شکور کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جو اپنے بیٹے کے ہمراہ لاہور سے کوئٹہ آرہے تھے مسافر بس میں زندہ بچ جانے والے مسافر امین اللہ کے صاحبزادے بتائے جارہے ہیں دیگر لاشوں کی شناخت اور ڈی این اے کیلئے نمونے لئے جارہے ہیں،دریں اثناء جمعہ کے روز صوبائی سیکرٹری صحت حافظ عبدلماجد نے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچ کر ہولناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کا معائنہ کیا اور ایم ایل او ڈاکٹر عائشہ سمیت دیگر حکام کو ہدایت کی کہ وہ شناخت کیلئے سیمپلز اور دیگر کاکام فوری طورپر انجام دیں اس موقع پر ایل ایم او ڈاکٹر عائشہ نے صوبائی سیکرٹری صحت کو بتایاکہ سول ہسپتال کوئٹہ میں لائی جانے والی لاشوں میں 14مرد،ایک خاتون اور ایک بچے کی لاش شامل ہیں۔دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے مسلم باغ میں مسافر کوچ اور پک اپ میں تصادم کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غم زدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کی بھر پور معاونت کریں۔ وزیراعلیٰ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیئے ڈپٹی کمشنرز ہائی وے پولیس کے ساتھ موثر لائحہ عمل بنائیں۔قومی شاہراہوں پر تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارواء یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے مسلم باغ کے علاقے کان مہترزئی میں ٹریفک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔صوبائی وزیر داخلہ نے واقعہ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے اورکہا کہ ایرانی پٹرول کی سمگلنگ پے مکمل پابندی کے باوجود یہ سلسلہ بند نہیں ہو سکا اور آج پندرہ افراد اس کی وجہ سے جان کی بازی ہارگئے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی ہوگی۔صوبائی وزیر داخلہ نے پی ڈی ایم اے کی بروقت کاروائی پہ اطمینان کا اظہار کیا۔ اور پی ڈی ایم اے کے عملے کو ہدایت کی کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود ہیں تاکہ مزید کارروائیوں میں عوام کو ریلیف دے سکے انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس کرتے ہوئے۔کہا کہ اللہ تعالی تمام شہیدوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور واقعے میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں قومی شاہراوں کو ‘تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتی اور یہی حادثات کی بڑی وجہ ہے’۔انہوں نے کہا کہ پابندی کے باوجود ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔وزیراعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ ‘معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور رپورٹ پیش کی جائے گی’، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیوں کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ان ‘مشتبہ گاڑیوں ‘ کا نوٹس نہیں لیتا۔علاوہ ازیں وزیراعلی نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ حادثے کی تحقیقات کریں اور 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کریں۔اس سے قبل کمشنر مکران ڈویژن کیپٹن (ر)طارق زہری کی گاڑی ضلع قلات کے علاقے میں تیل بردار گاڑی سے ٹکرانے کے باعث اپنے محافظین سمیت جان کی بازی ہارگئے تھے جس کے بعد صوبائی حکومت نے تیل کی اسمگلنگ پر پابندی عائد کردی تھی تاہم اس پابندی کوبھی سیاسی،مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ہدف تنقید بنایاگیاتھا۔سیاسی اور مذہبی وقوم پرست جماعتیں مطالبہ کرتی چلی آئی ہے کہ ایرانی تیل سے بلوچستان میں ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہیں حادثات کی خاص وجہ تنگ اور خستہ قومی شاہراہیں بھی ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں حکومتی سطح پر کیا پالیسی اپنائی اور اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like