ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی نزد ریلوے عید گاہ جوائنٹ روڈ کے مکین خون جمادینے والی سردی میں گیس سے محروم

0

 

 

صوبائی دار الحکومت کوئٹہ کے گنجان آباد علاقہ ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی نزد ریلوے عید گاہ جوائنٹ روڈ میں گزشتہ 6سال سے گیس پریشر میں کمی نے علاقہ مکینوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے 300کے قریب رہائشیوں کوسردیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیاجنہوں نے ووٹ لے کر دوبارہ اس علاقہ کی عوام کی خبر نہ لی،سوئی گیس پریشر کی بحالی یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے سابقہ ادوار سے لیکر موجودہ حکومت تک کسی نے اہل علاقہ کی دیرینہ مسائل پر توجہ نہیں دیا علاقے میں گیس پریشر میں مسلسل کمی کی وجہ سے اس خون جمادینے والی سردی سے علاقہ مکین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں رات کو سردی کی شدت سے کانپتے شہریوں کو صبح بھی بغیر ناشتہ کے دفاتر اور بچوں کو سکول جانا پڑتھا ہے ہیں امراء گیس نہ ہونے کی وجہ سے متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں جبکہ غریب مکین ٹھٹھر ٹھٹھر کرسردیاں گزارنے پر مجبور ہیں موجودہ حکومت، اعلیٰ گیس حکام اور علاقے کا منتخب نمائندہ علاقے میں گیس پریشر میں کمی کا نوٹس لیں بصورت دیگر اہل علاقہ جوائنٹ روڈ بلاک کر خواتین اور بچوں کے ہمراہ مین روڈ پر کیمپ لگانے پر مجبور ہونگے ان خیالات کا اظہار حاجی تنویر، دلشاد علی، حافظ عبدالباسط، نادر علی، شرجیل خان، شاکر صدیقی، محمد بشیر، فرقان علی، علی احمد بلوچ، ڈاکٹر پیر محمد، شفیق احمد، اللہ محمد، عطاء محمد کاکڑ ودیگر نے بلوچستان میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہر امیدوار بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن گزشتہ 6 سال سے ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی نزد ریلوے عید گاہ جوائنٹ روڈ کوئٹہ کے مکین جس تکلیف دہ دور سے گزرہے ہیں اس کا اندازہ لگانا شاہی محلات میں زندگی بسر کرنے والوں کی بس کی بات نہیں کوئٹہ کا شمار بلوچستان کے سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پر خون جمادینے والی سردی میں گیس پریشر میں کمی اور گیس نہ ہونے کی وجہ سے اہل علاقہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے گیس نہ ہونے کی وجہ سے امراء متبادل ذرائع کوئلہ، ایل پی جی گیس، لکڑی وغیرہ استعمال کرکے سردی سے خد کو محفوظ رکھتے ہیں جبکہ غریب خاندان متبادل ذرائع استعمال کرے یا پھر باری برکم بل جمع کرائے ایل پی جی گیس، لکڑی اور کوئلہ غریب کی پہنچ سے دور ہے موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی اہل علاقہ دن رات سردی سے بچنے کیلئے گرم ملبوثات کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلی والی گیس سے ملک کے دیگر صوبوں میں گھریلوں صارفین اور فیکٹریوں کو سوئی سدرن گیس میسر ہے لیکن بلوچستان کا صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کے گنجان آباد علاقہ گیس کی سہولت سے محرو م ہے بلوچستان کے عوام آج بھی اپنے ہی وسائل سے محروم ہے کیا ہم بل ادا نہیں کرتے جو ہم لوگوں کو سوئی سدرن گیس سے محروم رکھاگیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں موسم سرما کے مہینوں نومبر سے مارچ تک سردی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے اور نقطہ انجماد منفی 13تک پہنچ جاتی ہے اس دوران صوبے کے مختلف اضلاع سمیت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی نذد ریلوے عید گاہ جوائنٹ روڈ میں شہریوں پر گیس پریشر کی کمی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مسلط کردی جاتی ہے جس کے باعث سخت سردی میں صارفین بالخصوص بوڑھے، خواتین اور بچوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبکہ شہری سخت سردی میں ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں بلکہ اس دوران ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں، آئے روز عوامی احتجاج اور بیانات کے باوجود سوئی گیس حکام کا ٹس سے مس نہ ہونا عوام دشمنی ہے گیس پریشر کی مسلسل کمی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے وعدے پر عملدرآمد کیا جائیں تاکہ عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات حاصل اور انہیں کسی حد تک ریلیف مل سکیں۔ اگر متعلقہ حکام نے اس طرف توجہ نہ دی تو احتجاج کا دائرہ کاروسیع کرینگے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.