بھارتی سکیورٹی ادارے ڈی جی آئی ایس پی آر کے سامنے ڈھیر

0

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا تھا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی تھیں۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کے اکثر بڑے شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی تھی جہاں متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک 21 افراد ہلاک اور 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ بھارت بھر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ساتویں روز بھی جاری رہا،کسی بھی قسم کی کشیدہ صورتحال سے بچنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکاروں کو مسجد اور اطراف کے علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا اور ان مظاہرین میں سے اکثریت کے ہاتھ میں بھارتیہ آئین کا مسودہ تھا۔
یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت میں ترمیم سے متعلق قانون کے خلاف درخواستیں مسترد کردی تھیں، جس کے باعث ملک میں جاری مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے تقریباً 12 اضلاع میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ گورکھپور، فیروز آباد ، کانپور اور ہاپور میں بھی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔
گجرات کے شہر احمد آباد میں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کانگریس کے کونسلر شہزاد خان پٹھام سمیت 49 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ 5 ہزار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جھڑپوں اور مظاہروں کا مرکز رہنے والی نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر بھی 2 ہزار سے زائد طلبہ نے احتجاج کیا۔ناقدین کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون سے بھارت کا سیکولر تشخص بٴْری طرح مجروح ہوگا۔ان جھڑپوں اور مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ ہفتے اسلامی یونیورسٹیز سے ہوا تھا جس کا دائرہ بعد ازاں ملک بھر میں پھیل گیا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.