بلوچستان میں 1000 میں سے 34 نومولود بچے اور 1000 میں سے 66 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں

0

بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقاء کیلئے حکمت عملی اور عملی منصوبہ شروع کردیاگیاہے

 

جس کامقصد بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کے بعد کی بقاء ،بہترین دیکھ بھال،خوراک

کی فراہمی کیلئے اقدامات کرینگے ،بدقسمتی سے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی خراب ہے اور یہاں بہت سارے پیدا ہونے والے بچے اپنی پہلی سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں جبکہ بلوچستان میں 1000 میں سے 34 نومولود بچے اور 1000 میں سے 66 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار ، مدثر وحید ملک سیکریٹری ہیلتھ بلوچستان ، ،یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ Aida Girma۔ ایم این سی ایچ کے پروگرام کوارڈینیٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل ، ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ پروانشل ہیلتھ ڈاریکٹریٹ ڈاکٹر کمالان گچکی ، ڈاکٹر سرمد سعید خان ڈیپٹی پروگرام کوآرڈینیٹر ایم این سی ایچ ، ڈاکٹر شہک ریاض اور وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی نے Provincial Newborn Survival Strategy Balochistan کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے کہاکہ بدقسمتی سے بلوچستان میں نومولود بچوں کی صحت کا بہتر دیکھ بھال کیلئے سہولیات کافقدان تھا بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقاء کیلئے حکمت عملی اور عملی منصوبہ کا جو پروگرام شروع کیاگیاہے اس سے نومولود بچوں کی شرح اموات میں کافی حد تک کمی آئے گی ۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان کمالان گچکی حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کی جانب سے نومولود بچوں کی اموات کی روک تھام اور ان بیماریوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ،آج جس پروگرام کاافتتاح ہواہے اس سے نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں کافی حدتک کمی آئے گی ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ Aida Girma نے کہاکہ مجھے انتہائی خوشی ہورہی ہے کہ یونیسیف یہاں قیمتی نومولود جانوں کی تحفظ کیلئے نیوبرن سرووائیول اسٹریٹجی میں اپنا حصہ ڈال رہاہے ،اس دنیا میں آنے والے ہر نوزائیدہ بچے کو رہنے کا حق حاصل ہوتاہے اور ان کی بہتر دیکھ بال اور علاج کیلئے سہولیات کی فراہمی بھی اہم ذمہ داری ہے ،نوزائیدہ بچوں کو ان بیماریوں ”جو روکنے کے قابل ہیں ” سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ یہ شروعات ہوتی ہے جب نوزائیدہ بچے کو ان بیماریوں سے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ان بیماریوں سے پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پرنومولود بچے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ،بدقسمتی سے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی خراب ہے اور یہاں بہت سارے پیدا ہونے والے بچے اپنی پہلی سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر شہک ریاض نے نیو بورن سٹریٹجکی پیش کی اور ڈاکٹر سرمد سعید خان نے انوسٹمنٹ کیس پیش کیا ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.