لاٹھی اور بندوق کی نوک سے طلباء طالبات و ملازمین کو خاموش کرانے کی عمل کو بندکیا جائے

0

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے ترجمان نے کہا ہے کہ بولان میڈیکل کالج کی پچھلی آزادانہ حیثیت کو بحال کیا جائے لاٹھی اور بندوق کی نوک سے طلباء طالبات و ملازمین کو خاموش کرانے کی عمل کو بندکیا جائے ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل کوٹہ سسٹم کو بحال کر کے تعلیم برائے فروخت کے عمل کو روک کر بزنس اور کاروباری طریقے کو بند کیاجائے وائس چانسلر کو فی الفورہٹایا جائے طلباء طالبات و ملازمین پر تشدد لاٹھی چارج،قید وبند،جیل و سلاخوں کے طاقت کو آزمانے کی بجائے گفت و شنید اور ڈائیلاگ کو اہمیت دیتے ہوئے جمہوری طریقوں سے مسلوں کا حل تلاش کیاجائے ترجمان کے بیان کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں ہر ایک اپنا آزاد انہ اظہار خیال کر سکتا ہے جہاں تک بولان میڈیکل کالج کا مسئلہ ہے پچھلے حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے بغیر کسی صلاح مشورے کے جلد بازی میں اسمبلی سے ایک ایکٹ پاس کی اس ایکٹ کی وجہ سے بولان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات اور ملازمین کافی متاثر ہوئے جہاں تک میڈیکل یونیورسٹی کا تعلق ہے ہم کسی بھی یونیورسٹی کے بننے کیخلاف نہیں چائیے ہماری خوائش ہے کہ بلوچستان میں سینکڑوں یونیورسٹیاں بنے لیکن وہاں کے اسٹیک ہولڈر ز، دانشورز، طلباء،سیاسی تنظیموں،قلم کاروں،پروفیسرز سب کے مشورے اور سب کے رائے کا احترام کر کے فیصلہ لیا جائے جہاں کئی بھی درسگاؤں کی بہتری کیلئے اقدامات اُٹھائے جائے بی این پی (عوامی) اس کی حمایت کرئیگی لیکن ہم ایسے عمل کاکھبی حصہ نہیں بنے گے جس میں ہماری معروضی، ارتقائی، تاریخی،معاشی،سماجی،حالات کو نظر انداز کر کے خواہشات کی بنیاد پر اوپن میرٹ کے نام پر ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے اور پورے بلوچستان میں باقی جو غریب لوگ اور پسماندہ علاقے ہیں انکو نظرانداز کر کے ڈویژنل اور ڈسٹر ک کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے اوپن میرٹ کے نام پر ایک مخصوص گروہ اور مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کی خاطر وائس چانسلر اپنے ٹیم کے ساتھ جس طریقے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں اُن کے عمل سے ایسے نظر آرہا ہے کہ بولان میڈیکل کالج کے طلباء وملازمین کئی فلسطین کی غزہ کی پٹی پر کھڑے ہیں اور وہاں سے اسرائیل انکو مار رہا ہے شروع میں جب بولان میڈیکل کالج بنا 70کی دہائی میں جب ڈسٹرکٹ کوٹہ سسٹم بنا تو ہر ڈسٹرکٹ کیلئے سیٹ مخصوص کیے گئے اس پالیسی کی روح سے بلوچستان کے بہت سے پسماندہ اضلاع میں سے کوٹہ سسٹم کے تحت بولان میڈیکل کالج سے بہت سے طلباء نے اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بن کر ان پسماندہ علاقوں میں اپنی خدمات سر انجام دی اور اس پالیسی نے پورے بلوچستان کو بیلنس کیا آج جو بلوچستان کے ہر تحصیل،ڈسٹرکٹ میں ڈاکٹر نظر آرہے ہیں یہ اسی پالیسی کی بنیاد پرہی غریب کا بیٹا بھی ڈاکٹر بنا لیکن اب 2017کے اس ایکٹ کے بعد ایک مخصوص طبقہ جو علم برائے فروخت اور کمر یشلائز یشن کے طور پر اپنی نقطہ نظر سے ایک مخصوص گروہ کی مفادات کو تحفظ دینے کی خاطر جو سلسلہ شروع کرنے جارہے ہیں جس کا ہر اول دستہ کا کردار بولان میڈیکل یونیورسٹی کا وائس چانسلر ادا کررہا ہے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جو شروع سے لیکر اب تک پالیسی رہی ہے انکی پالیسیوں سے باقی صوبوں کو تو بہت فائدہ ملا سینکڑوں کی تعداد میں پنجاب،سندھ،کے پی کے میں یونیورسٹیاں بنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جو پالیسی تھی انہوں نے باقی تین صوبوں میں اربوں کربوں کے حساب سے پیسے خرچ کیے اور ہر ضلع اور ہر ڈویژن ہیڈ کوارٹر ز میں یونیورسٹیز بنائی گئی لیکن صد افسوس کہ جب بلوچستان کی علم و زانت اور یونیورسٹی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے سلسلہ جو شروع کی گئی ہے بجائے کہ مرکز فنڈنگ کریں بولان میڈیکل کالج کی جو زمین اور اثاثہ جات جو ارب اور کربوں کے حساب سے مارکیٹ میں انکی اہمیت اور قیمت ہے ان تمام اثاثہ جات کو مال غنیمت سمجھ کر وہ بڑے شوق سے انکے طلب گار بن چکے ہیں اور پچھلے حکومت نے اس غریب صوبے کے اتنی بڑی وسائل کو ایک ادھورا ایکٹ کے تحت ہائرایجوکیشن کمیشن کو بخش دی حالانکہ قومی ادارے کسی فرد،کسی قبیلے کسی ایک پارٹی کے نہیں ہوتے یہ بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ ہر تحصیل ہر پہاڑ کے دامن میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی قیمتی سرمایہ ہیں جو کہ یک قلم جنبش کسی کو بخشی نہیں جا سکتی اس لیے بی این پی (عوامی) یہ سمجھتی ہیں کہ بولان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات اور ملازمین جو مطالبہ جمہوری طریقے سے کررہے ہیں انکی جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کی جائے لاٹھی اور بندوق کی نوک سے طلباء و طالبات کو خاموش کرنے کی عمل کو بند کیا جائے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو فوری طور پر ہٹایاجائے اور ایک غیر جانبدار با علم با صلاحیت با کردار بلوچستانی کووائس چانسلر تعینات کیا جائے بولان میڈیکل کالج کی پچھلی آزادانہ حیثیت کو بحال کیا جائے کوئٹہ سسٹم،ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل کوٹہ سسٹم کو بحال کیا جائے تعلیم برائے فروخت کے عمل کو روک کر بزنس اور کاروباری طریقے کو روکا جائے بولان میڈیکل یونیورسٹی کی (افلیشن)وابسطگی،تربت،خضدار،بولان میڈیکل کالج سے جوڑا جائے ایک مخصوص گروہ کی مداخلت بند کی جائے بلوچستان کے جتنے بھی ادارے ہیں انکا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈر ز کیساتھ جامعہ ڈسکیشن کے بعد کیا جائے ایپکا والوں کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں قیدو بند لاٹھی چارج اورجیل وسلاخوں کے طاقت کو آزمانے کے بجائے گفت و شنید اور ڈائیلاگ کو اہمیت اور اولیت دی جائے پرُ امن بغیر کسی تشدد کے جمہوری طریقے سے فیصلوں کا حل تلاش کیا جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.