تفتان بارڈر پر 6500ماسک اور 25لاکھ روپے مالیت کی ادویات تفتان پہنچائی گئی

0

کوئٹہ 03مارچ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کرونا وائرس کی روک تھام، احتیاطی تدابیر، تفتان بارڈر پر زائرین کی صورتحال اور ان کی واپسی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے اس حوالے سے بعض اہم فیصلے کئے گئے، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر، متعلقہ محکموں کے سیکریٹری، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ نے اجلاس میں شرکت کی، سیکریٹری صحت مدثر وحید ملک نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ تفتان بارڈر پر پاکستان ہا¶س کو ایران سے واپس آنے والے زائرین کے لئے قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے وہاں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں، تفتان کے علاوہ پاک ایران بارڈر کے دیگر تمام انٹری پوائنٹس آمدورفت کے لئے بند ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر چمن کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ تفتان بارڈر پر ڈاکٹر اور تعینات طبی عملہ زائرین کی اسکریننگ اور دیکھ بھال کررہا ہے، 6500ماسک اور 25لاکھ روپے مالیت کی ادویات تفتان پہنچائی گئی ہیں، این آئی ایچ کی موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹری کل تک تفتان پہنچ جائے گی، گوادر، دالبندین، تربت اور کوئٹہ میں تین فیزز میں تیس تیس بستروں پر مشتمل آئسولیشن مراکز کے قیام پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے، تمام سہولتوں سے آراستہ دس بستروں پر مشتمل ایک آئسولیشن مرکز کا تخمینہ لاگت 17.5ملین روپے ہے، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایران اور تفتان بارڈر پر قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے والے زائرین کی واپسی کا آغاز کیا گیا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون نے اجلا س کو آگاہ کیا کہ تفتان میں زائرین کی رہائش کے لئے پی ڈی ایم اے نے 12کنٹینر فراہم کئے ہیں جبکہ مزید 20کنٹینر خریدے گئے ہیں جنہیں ضروری سہولیات سے آراستہ کرکے تفتان پہنچایا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ تفتان میں زائرین کو خوراک فراہم کی جارہی ہے، اجلاس میں تفتان میں ایران سے واپس آنے والے زائرین کی تعداد میںاضافے کے پیش نظر زائرین کی کوئٹہ منتقلی اور یہاں انہیں قرنطینہ کرنے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا، اجلاس میں کوئٹہ میں مختلف مناسب مقامات پر قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے محکمہ مواصلات، کمشنر کوئٹہ اور ڈی جی پی ڈی ایم کو محکمہ صحت کی معاونت سے کام کے آغاز کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال اورشیخ زید ہسپتال میں آئسولیشن کی تمام تر تیاریاں مکمل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر زائرین اور ایرا ن سے آنے والے دیگر افراد کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا تیار کرنے کی ہدایت کی، اجلاس میں دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے وہ زائرین جو قرنطینہ کی مدت مکمل کرلیں گے اور ان میں کرونا وائرس کی علامات نہیں ہوں گی کی ان کے متعلقہ صوبوں میں واپسی کا لائحہ عمل بھی طے کیا گیا، اجلاس میں کوئٹہ میں ہنگامی بنیادوں پر پچاس ایکٹر پر محیط ایمرجنسی اینڈ ریلیف سینٹر کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، سینٹر کے قیام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صوتحال اور قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور انہیں ریلیف کی فراہمی ہے، سینٹر میں رہائش، پانی، بجلی اور طبی سہولتیں دستیاب ہوں گی، سینٹر پی ڈی ایم کی اراضی پر رواں مالی سال میں مکمل کیا جائے گا جس کے لئے محکمہ مواصلات کو ہدایات جاری کی گئیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.