ماضی میں تعلیم کی ترقی کیلیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے جسکی وجہ سے شعبہ تعلیم تنزلی کا شکار رہا۔

0

کوئٹہ 13 مارچ:۔صوبائی وزیرِ ثانوی تعلیم و ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام دور دراز علاقوں کے سکولوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔جامع منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی کی وجہ سے محکمے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ اپنے جاری کردہ ایک بیان میں صوبائی وزیر سردار یار محمد رند نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تعلیم کے شعبے کی ترقی کیلیے اقدامات کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ماضی میں تعلیم کی ترقی کیلیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے جسکی وجہ سے شعبہ تعلیم تنزلی کا شکار رہا۔ موجودہ حکومت کیطرف سے ثانوی تعلیم سمیت ہائیر اور ٹیکنیکل تعلیم کیلیے انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ بعض سکولوں میں سائنس لیبارٹریوں کی بندش المیہ ہے۔ اسکا نوٹس لے لیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں سکولوں میں فعال سائنس لیب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی بندش کی اجازت نہیں دیں گے۔ تمام کلسٹر ہیڈز سائنسی آلات کے لیے مختص رقوم کو درست انداز میں استعمال کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی سکول میں غیر فعال سائنس لیب کا ذمہ دار متعلقہ ہیڈ ماسٹر صاحبان یا ڈی ڈی او صاحبان ہوں گے۔ غفلت کے مرتکب افراداور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار یارمحمد رند نے کہا کہ رواں سال سکولوں سے باہر بچوں کی کثیر تعداد کو سکولوں تک لایا جائے گا۔ محکمہ تعلیم درست سمت میں گامزن ہے۔ سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں بتدریج بہتری لائی جائے گی۔ حکومت کی ٹھوس اور بہتر حکمت عملی کے باعث نظام میں عوام کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دہائیوں پر محیط ناانصافیوں کا ازالہ اتنی جلدی ممکن نہیں۔ موجودہ حکومت طویل معاشی ناہمواریوں کے سدباب کے لیے مثبت انداز میں کام کررہی ہے۔ گزشتہ ادوار میں تعلیم سمیت دیگر شعبوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ جس سے برائے راست صوبے کے مستقبل پر منفی اثرات پڑے۔ سردار رند نے کہا کہ موجودہ حکومت طویل المدتی منصوبوں کے اجراء پر عمل پیرا ہے۔ تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات کے دورس نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہاہے۔ گزشتہ ادوار میں مؤثر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کو بہت نقصان پہنچا موجودہ حکومت نے قلیل مدت میں شعبہ تعلیم میں مؤثر قانون سازی عمل میں لاتے ہوئے محکمے سے وابستہ لوگوں کیلیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ سروسز رولز کے علاوہ دیگر قوانین کا فائدہ برائے راست محکمے کے ملازمین کو ہوگا۔ اسکے علاوہ نظام تعلیم میں بہتری کے ساتھ ساتھ احتساب کے عمل میں بھی آسانیاں ہوں گی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.