سندھ میںکوروناوائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 394 تک پہنچ گئی

0

کراچی (آن لائن)سندھ میںکوروناوائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 394 تک پہنچ گئی ہے ،جس میںشہرمیںمقامی منتقلی کے 83 اورسکھرفیزIIکے 109 شامل ہیں۔فیزIIمیںسکھر میں 833 زائرین پہنچے جس میں سے 677 کے ٹیسٹ منفی پائے گئے اورصرف 109 کیسزمثبت آئے۔اس بات کاانکشاف وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ کی زیرصدارت یہاںکوروناوائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے 26 ویںاجلاس میںہوا۔ اجلاس میںصوبائی وزراء￿ ،میئرکراچی،چیف سیکرٹری،آئی جی سندھ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو،ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ ،ایڈیشل آئی جی،ڈبلیوایچ او،آغاخان،انڈس،کور 5 ،رینجرز،ایئرپورٹ،سول ایوی ایشن،ایف آئی اے کے نمائندوں اور محکمہ صحت کے فوکل پرسن و دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کوبتایاگیاکہ کوروناوائرس کیسزکی تعداد 394 ہوگئی ہے۔ ان میںکراچی دیگراضلاع میں 134 ،سکھرفیز 1 کے151زائرین اورسکھرفیزIIکے 109 شامل ہیں۔ لوکل ٹرانسمیشن کیسز کی تعداد بھی 83 تک پہنچ گئی ہے۔ اس پروزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اس وجہ سے انہوںنے مقامی ٹرانسمیشن کوروکنے کیلئے لاک ڈاؤن کاسخت فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ صحت نے اب تک 3450 ٹیسٹ کیے ہیں،ان میںسے 3020 منفی قراردیئے گئے ہیںجبکہ 394 مثبت آئیے ہیں۔ سندھ میں10 کیسز 9 مارچ کو،25 کیسز 18 مارچ کو، 21 کیسز 21مارچ کورپورٹ ہوئے۔اس وقت 1099 زائرین سکھر میں ، 83 لاڑکانہ میں اور 98 ملیرمیںزیرعلاج ہیں۔ٹیسٹ کی گنجائش، پورے سندھ میںکام کرنے والے 10 اسپتالوںمیںکوروناوائرس کے نمونوںکے ٹیسٹ کی مجموعی گنجائش 1200 یومیہ ہے اوروزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ انہوںنے ضروری وسائل مہیاکردیئے ہیں،لہذاروزانہ کی گنجائش کوبڑھاکر 3400 کردیناچاہئے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یہ گنجائش روزانہ 180 ٹیسٹ تھی۔روزنامہ رپورٹ، 29 سرکاری اسپتالوںکی جمعہ کی روزانہ رپورٹ میںبتایاگیاہے کہ نمونیاکے 1874 کیسزآئے ان میں سے 18 کے ٹیسٹ کیے گئے جبکہ نجی اسپتالوںمیں 702 کیسرپورٹ ہوئے اوران میںسے 19 ٹیسٹ کیلئے موزوں سمجھے گئے۔وزیراعلیٰ سندھ کوبتایاگیاکہ6بین الاقوامی پروازوںمیں 987 مسافرآئے ہیںاوران سب کی اسکریننگ کردی گئی ہے۔ ایک مسافرمشتبہ پایاگیااوراس کانمونہ ٹیسٹ کیلئے بھیجاگیاہے۔ 14 مقامی پروازیںتھیںاوران میںسے 3 منسوخ کردی گئیں۔ مقامی پروازوںمیں 918 مسافرآئے تھے اوران میںسے دوکوروناوائرس کے مشتبہ تھے،لہذاان کے نمونے ٹیسٹ کیلئے بھیجے گئے ہیں۔لاک ڈاؤن،ایس اینڈجی اے میںقائم کنٹرول روم کو 153 شکایات موصول ہوئیں،ان میںسے 104 دکانیںبند کرنے ،لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی دو،بجلی کی بندش اوراس طرح کی دیگرشکایات تھیں۔وزیراعلیٰ سندھ کوبتایاگیاکہ مختلف تنظیموںنے کنٹرول روم میں اپنے ضروری عملے کے اراکین کیلئے لاک ڈاؤن کی چھوٹ کیلئے درخواست کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سکریٹری کومعاملات کے حوالے سے خودفیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کولاک ڈاؤن کومزیدسخت کرنے کی ہدایت کی۔پنشن کی جلدادائیگی،وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے محکمہ خزانہ کوہدایت کی ہے کہ وہ 25 مارچ سے صوبائی حکومت کے ریٹائرڈملازمین کوپنشن دیناشروع کردیں۔ معمر افرادکامدافعتی نظام کمزور ہوتاہے،لہذاانہیںبینک میں ایک ہی وقت میں ایک جگہ جمع نہیںہونا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ ان کے لیے ہدایات جاری کردیں کہ ان کی پنشن 25 مارچ سے اداکردی جائے۔انہوںنے پنشنرزپربھی زوردیاکہ وہ 25 مارچ سے اپنی پنشن نکالنا شروع کریںاور اپنی مناسب طریقے سے دیکھ بھال کریں۔ سیکرٹری خزانہ نے پنشن کی جلدادائیگی کیلئے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ اورڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسران ، ٹریڑری افسران کوخط جاری کر دیا ہے۔فنڈزکی روک تھام، وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے صوبے میںکوروناوائرس پھیلنے کی وجہ سے صوبائی حکومت کے اخراجات پرقابوپانے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کافیصلہ کیاہے۔ لہذاانہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ باقاعدہ تنخواہ اورپنشن کے علاوہ،ایل پی آرکی ان کی شمنٹ،گریجویٹی اور کیمیو ٹیشن جیسی تمام ادائیگیوںکوروک دیا گیا ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے سندھ کے اکاؤنٹنٹ جنرل،ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسران اورٹریڑری افسران کوحکومتی فیصلے سے آگاہ کردیا ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.