کورونا وائرس کے باعث ملک میں جہاں ایک طرف مزدور پیشہ اور گھریلو کاروبار سے منسلک خواتین معاشی طور پر شدید متاثر ہوئی ہیں

0

پاکستان میں حقوق نسواں کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں جہاں ایک طرف مزدور پیشہ اور گھریلو کاروبار سے منسلک خواتین معاشی طور پر شدید متاثر ہوئی ہیں تو دوسری طرف اس وباء کے دورانیے میں معاشرے میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے عورت فاونڈیشن اور ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ کے اشتراک سے کوئٹہ میں سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت اور بلدیاتی نظام سے متعلق منعقد ہونے والی دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے “جذبہ ” پروگرام کی پروجیکٹ افسر یاسمین مغل نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان میں معاشی سرگرمیوں سے وابستہ خواتین شدید متاثر ہوئی ہیں جن کی بحالی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر خاطر خواہ اقدامات ناگزیر ہیں بصورت دیگر ملک میں متواسط درجے کے لاکھوں خاندان معاشی بد حالی کا شکار ہوکر غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے اور ملک میں غربت کی عفریت میں مزید اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ عورت فاونڈیشن اور ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ پاکستان کی خواتین کی بہبود اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہیں دونوں تنظیمیں جذبہ پروجیکٹ کے تحت ضلعی سطح پر خواتین کی معاشی اور سیاسی عمل میں موثر شمولیت کے حوالے سے مشترکہ اقدامات اٹھائیں گی جبکہ خواتین کے افرادی و آئینی حقوق کے لیے قانون سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے عورت فاونڈیشن کوئٹہ کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی نے کہا کہ تشدد سے پاک معاشرہ ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث خواتین کی مشکلات میں ہر لحاظ سے اضافہ ہوا ہے جبکہ گھٹن معاشی و اقتصادی صورتحال کی وجہ سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے انہوں نے بتایا کہ جذبہ پروگرام کے تحت بلوچستان کے دو اضلاع سبی اور کوئٹہ میں بہبود نسواں کے لیے عورت فاونڈیشن اور ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ مشترکہ کام کررہی ہیں اس پروگرام کے تحت خواتین کی سیاسی عمل میں موثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ جذبہ پروگرام کے تحت کوئٹہ اور سبی میں کورونا وائرس سے متاثرہ غریب اور مستحق خاندانوں میں راشن کی فراہمی کا منصوبہ بھی تشکیل دیا گیا ہے ورکشاپ میں پروگرام کے شرکاء کو بلوچستان میں خواتین کے حقوق کی پاسداری کے لیے سازگار ماحول میں مربوط لائحہ عمل کے تحت کام کرنے کی قابل عمل حکمت عملی اپنانے کی تربیت دی گئی

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.