پاک افغان بارڈر چمن کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال

0

جولائی:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاک افغان بارڈر چمن کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس مسئلہ کے مستقل بنیادوں پر حل سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بعض اہم فیصلے کئے گئے، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، آئی جی ایف سی(نارتھ) میجر جنرل فیاض حسین شاہ، آئی جی پولیس محسن حسن بٹ، سی او ایس سدرن کمانڈ میجر جنرل دلاور، کلکٹر کسٹم بلوچستان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور اینٹیلیجنس اداروں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی، محکمہ داخلہ، سیکیورٹی اور اینٹیلیجنس اداروں، پاکستان کسٹمز اور انتظامیہ کی جانب سے اجلاس کوبریفنگ دی گئی جس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ممنوعہ اور غیر ممنوعہ اشیاء کی سمگلنگ، امن وامان کی صورتحال، لغڑی پیکج کے تحت مقامی لوگوں کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستا ن جانے والی اشیاء کو واپس پاکستان لانے کی چھوٹ کے علاوہ دیگر امور شامل تھے، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ماضی میں سرحدی کشیدگی اور بدانتظامی کے باعث پاک افغان سرحد کو عارضی طور پر بند کیا جاتا رہا ہے اور کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال بھی اس وقت سرحد کی بندش کی ایک بڑی وجہ ہے، ایک اندازے کے مطابق روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں لغڑی پیکج سے منسلک افراد بھی شامل ہیں، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیاء ویش بارڈر پر اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیاء ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادئیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں جس سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتاہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لغڑی پیکج سے منسلک چمن کے مقامی افراد کو فوری طورپر حکومت بلوچستان کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت مالی پیکج دیا جائے گا، اس ضمن میں مقامی انتظامیہ اور ایف سی ان افراد کی پروفائلنگ کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر فوری طور پر دوکمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی، ایک کمیٹی علاقے میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی جو مقامی تاجروں اور لغڑی پیکج سے منسلک افراد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہیں سرحد کی بندش کے محرکات پر اعتماد میں لے گی جبکہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک انتظامی ذیلی کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی گئی جس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں اور ایف سی حکام کے علاوہ چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، ذیلی کمیٹی مسئلہ کے مستقل بنیادوں پر حل کے لئے متبادل معاشی سرگرمیوں، بارڈر ٹریڈ کے موثر طریقہ کار، بارڈر مارکیٹوں اور ویئر ہاوسز کے قیام، ایمیگریشن اور کسٹمز کی سہولیات اور دیگر سرحدی امور کی باضابطگی سے متعلق سفارشات پیش کرے گی، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ متبادل معاشی سرگرمیوں کے اقدامات سے چمن اور تفتان میں باقاعدہ اور قانونی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ باقاعدہ اور قانونی تجارت کے فروغ سے نہ صرف ٹیکسز کی مد میں حکومت کو آمدنی ہوگی بلکہ مقامی تاجروں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو حاصل اختیارات کے تحت ملکی مفاد میں فیصلے کئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے متعلق امور پر وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اس مسئلہ کا فوری اور مستقل بنیادوں پر حل ممکن ہوسکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.