حکمت قرآنی کی روح سے کورونا کا مقابلہ

0

حکمت قرآنی کی روح سے کورونا کا مقابلہ

تحریر: علامہ مقصود علی ڈومکی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ مبارکہ بقرہ کی 195ویں آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
” اور ﷲ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو۔ بیشک اﷲ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے”
اگرچہ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں اپنے مال و دولت میں سے خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور کہا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اسلام کی بقاء کی خاطر اپنے مال و دولت میں سے خرچ نہ کیا تو دشمن ان پر غلبہ پا لے گا اور مسلمان ہلاکت سے دوچار ہوجائے گا۔ یہاں پر ہلاکت سے مراد یہ ہے کہ مسلمان سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا اور اپنی منزل مقصود تک نہیں کے قابل نہیں رہ جائے گا اور در در کی ٹھوکرے کھانے پر مجبود ہوجائےگا۔ لیکن بہت سی جگہوں پر قرآن مجید نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی شان نزول کسی ایک واقعہ یا پس منظر تک محدود نہیں ہے اور مفسریں قرآن بھی واضح انداز میں بیان کردہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر اس چیز سے منع فرمایا ہے جو اس انسان کی نابودی اور ہلاکت کا باعث بنے۔ اس آیت کی رو سے انسان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈال دے۔ چاہے وہ خودکشی کی صورت میں ہو یا کسی اور عمل کی صورت میں۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو بچانے اور دین کے ستونوں کو تقویت بخشنے کیلئے مسلمانوں پر اپنا مال و دولت خرچ کرنا فرض قرار دیا ہے بالکل اسی طرح آفات اور بلاؤں کے دوران مسلمانوں کو ہر اس چیز کے پاس جانے اور اسے اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے جو ان کی بربادی اور ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ البتہ انسان کو ہر اس کام میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے جو معاشرے سے بلاؤں اور آفات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لہذا اس آیت کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو بلاؤں اور آفات کے دوران کیا کرنا چاہئے۔ چاہے یہ قدرتی آفات ہو ۔ جیسے کہ زلزلہ، طوفان یا سیلاب یا وبائی امراض ہو جیسا کہ طاعون، کرونا وغیرہ ۔ ان حالات میں مسلمان حکمرانوں کہ وہ ایسی تدابیر اختیار کرے جس سے کم سے کم نقصان کا اندیشہ ہو۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ وبا کے دوران احتیاطی تدابیر پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں۔ کیونکہ وبائی امراض باآسانی ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل ہوتی ہے۔
لہذا قدرتی آفات ہو جیسا کہ زلزلہ، طوفان یا سیلاب یا امراض ہو چاہے میراثی ہو یا وبائی، دونوں صورتوں میں انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ان احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
قرآن کریم نے نظام صحت کا ایک وسیع ضابطہ متعارف کروایا ہے جسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1۔ جسمانی 2۔ روحانی اور نفسیاتی 3۔ سماجی
اگر جسمانی پہلو کی بات کی جائے تو قرآن کریم نے مسلمانوں کو بعض قسم کے خوراک کھانے سے منع کیا ہے۔ ان میں سے بعض خوراک سماجی برائیوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شراب یا نشہ آور چیزیں جو انسان کی فکری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں، ان چیزوں کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے یا مثال کے طور پر الکوحل ، خنزیر کا گوشت اور مردہ جانوروں کا گوشت، ان کا استعمال حرام ہے کیونکہ یہ چیزیں انسانی صحت کیلئے مضر ہے۔ اسی طرح پرخوری کرنا یا بھرے پیٹ کھانا، اسراف اور تبذیر کرنا بھی قرآن کی رو سے حرام ہے کیونکہ یہ انسان کی ذاتی اور سماجی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اسی طرح جنسی صحت اور تسکین کے حوالے سے قرآن کریم نے مرد اور عورت کے درمیان نکاح جیسی شرعی اور قانونی عمل کو متعارف کرایا ہے تاکہ جنسی بے راہ روی اور غیر شرعی طریقے سے جنسی تسکین سے نجات پایا جا سکے اور انسان کا حسب نسب برباد ہو نے اور خاندانی نظام کا شیرازہ بکھرنے سے بچا جا سکے لیکن یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے ہم جنس پرستی کو حرام قرار دیا ہے چاہے ہم جنس کا ہم جنس کے ساتھ نکاح ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ہم جنس پرستی انسانی نسل کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور بہت سے روحانی اور جنسی امراض اور مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ یہ تھا جسمانی پہلو۔
اب اگر روحانی پہلو کی بات کی جائے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی فردی اور اجتماعی زندگی میں صبر و بردباری اختیار کرنے ، توکل و توسل سے کام لینے اور ذکر الہیٰ کو روحانی اور دلی سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح رب کائنات نے انسان کو ما یوسی اور پریشانی کے عالم میں گلہ شکوہ اور ناشکری کرنے اور اپنی یاد سے غافل رہنے سے منع فرمایا ہے، چونکہ خدا کی یاد سے غفلت انسان کو خواہشات نفسانی کا تابع بنا دیتا ہے اور انسان گناہوں کا اسیر بن جاتا ہے۔
اجتماعی حوالے سے اگر بات کی جائے تو قرآن کریم نے انسان کو ہدایت پانے کیلئے ہر وہ چیز اختیار کرنے کی سفارش کی ہے جو معاشرے میں مساوات اور سماجی انصاف کا سبب بنتے ہیں جس سے معاشرے کی روح تازہ رہتی ہے۔ معاشی معاملے میں زکات ادا کرنا، خدا کی راہ میں غریبوں کی مالی مدد کرنا، حرام مال و دولت جمع کرنے سے پرہیز کرنا اور حرام تجارت سے دوری اختیار کرنا، یہ سب چیزیں معاشرے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح معاشرے کی اخلاقی پرورش کیلئے بھی قرآن مجید نے ہمارے لئے چند نمونے اور ضابطے رکھے ہیں، مثال کے طور یہ کہ ہمیں دوسروں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے اور ایک دوسرے کو برے القابات سے نہیں پکارنا چاہئے، کیونکہ یہ چیزیں معاشرے کی اخلاقی تنزلی کا باعث بنتے ہیں۔
جہاں تک وبائی امراض کا تعلق ہے تو دین مبین اسلام نے کرونا جیسے وبائی امراض سے مقابلے کیلئے بھی ہمیں جنرل فارمولے بتائے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعے احتیاطی تدابیر کے ساتھ وائرس کی روک تھام اور وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں بروقت علاج معالجے کی سفارش کی ہے۔ اسلام اور قرآن کریم دونوں نے صحت کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دی ہے۔ چاہے وہ فردی لحاظ سے ہو یا معاشرتی اور سماجی لحاظ سے۔
سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت نمبر 222 میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے کہ:
” بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو توبہ کرنے والے ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے جو بہت پاک رہنے والے ہیں۔”
اسی طرح سورہ مبارکہ فرقان کی 48 ویں آیت میں ارشاد گرامی ہے کہ:
“اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے، اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل فرمایا۔”
اور سورہ اعراف کی 32 ویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
“کہہ دو اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اور کس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں)، کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی، اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔”
اسی طرح بہت سی دیگر آیتیں حفظان صحت کے حوالے سے نازل ہوئی ہے جن میں وضو اور غسل کے حوالے سے آیتیں بھی موجود ہے۔ نیز بہت سے احادیث و روایات بھی موجود ہے جو ہمیں کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے، مسواک لگانے اور جسم کی صفائی ستھرائی اور گندگی سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آسمانی ادیان میں شاید اسلام وہ واحد دین ہے جس نے پاکیزگی اور طہارت کرنے اور واجب و مستحب غسلوں کے بارے میں اس قدر تاکید کی ہو۔ بالخصوص جمعہ کے دن کا غسل جو ظاہری لحاظ سے بھی جسم کیلئے فائدہ مند ہے یعنی اس سے جسم صاف ستھرا ہوجاتا ہے اور باطنی لحاظ سے بھی اس دن غسل کرنا بہت اہم ہے ۔ مسلمان کیلئے ہفتے میں کم از کم ایک بارغسل کرنے پر بہت زور دی گئی ہے۔
رسول گرامی اسلام نے ایمان کی ایک علامت صفائی کو قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے کہ : النضافۃ من الایمان” یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ قصہ مختصر اسلام میں صفائی ستھرائی کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ خاص کر وبائی امراض اور مہلک وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں جسم کو صاف ستھرا رکھنے اور حفظان صحت کے اصولوں کی پیروی کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اور عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مذکورہ آیات کی رو سے انسان احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنے اور دوسروں کو جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
اسی طرح خوراک اورپوشاک میں بھی انسان کو احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ایسی خوراک کھانے سے پرہیز کیا جائے اور ایسا لباس نہ پہنا جائے جو انسان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور انسان کو بیماری میں مبتلا کردیتے ہیں۔
اسی حوالے سے سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت نمبر 168 میں ارشاد پاک ہے کہ :
“اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔”
یہاں پر حلال سے مراد وہ کھانا ہے جس میں دوسروں کا حق شامل نہ ہو اور پاکیزہ سے مراد وہ غذا ہے جو صاف ستھرا اور گندگی سے پاک ہو۔ اب اگر کھانا حلال ہو مگر پاکیزہ نہ ہو تو اس صورت میں یہ کھانہ کھانا درست نہیں ہے چاہے وہ انسان کا اپنا مال کیوں نہ ہو۔ ہم اس طرح کے بوسیدہ کھانے کو فاسد کا نام دیتے ہیں کیونکہ جو بھی غذا زیادہ دیر تک استعمال نہ ہو اور اس کی رنگ و بو تبدیل ہوجائے تو وہ کھانا فاسد ہوجاتا ہے اور اپنے ساتھ جراثیم اور مختلف بیماریاں لاتا ہے جو انسان کی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
یہی اصول سانس لینے میں بھی کارفرما ہے اور انسان کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ تازہ ہوا تنفس کریں اور حتی المقدور آلودہ ہوا والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں، اسی طرح روزہ دار کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ دھویں اور غبار کو اپنے حلق میں جانے نہ دیں ورنہ اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔
اسی طرح ضرورت مندوں کی مالی مد د خاص کر وبائی امراض کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے دوران جو ضرورتمند افراد اپنے گھروں میں محصور ہوجاتے ہیں اور معاشی حوالے سے زبوحالی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی مالی مدد کرنے کی قرآن نے صراحت کیساتھ تاکید فرمائی ہے، کیونکہ انسان کے اس نیک عمل سے نہ صرف ان افراد کے لبوں پر مسکراہٹ لوٹ آتی ہے بلکہ معاشرے کی خوشحالی بھی بحال ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ذخیرہ اندوزی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے خاص کر جنگ یا وبائی امراض کے دوران جب لوگوں کو کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ذخیرہ اندوز مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں اور مہنگے داموں بلیک میں وہ چیز فروخت کرکے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلامی روایات میں ذخیرہ اندوز کو ” ملعون” کے نام سے پکارا گیا ہے۔
آخر میں ، میں یہی کہوں گا کہ قرآن اور اسلام نے وبائی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ایک دفاعی حکمت عملی اپنانے کی سفارش کی ہے اور یہ حکمت عملی اسی صورت موثر ثابت ہوگی جب ہم فردی اور اجتماعی طور پر حفظان صحت کے اصولوں کی پیروی کرینگے چاہے یہ کھانے پینے کے معاملے میں ہو، لباس پہننے میں ہو ، ایک دوسرے سے میل جول رکھنے میں ہو یا مسلمان کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرنے میں ہو، ہمیں ہر اس معاملے میں احتیاط برتنی چاہئے جس سے ہمارے جسمانی اور روحانی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ تاجدار کائنات آقاﷺ فرماتے ہیں ” لا ضررُ ولا ضرار فی الاسلام ۔۔ اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ “اسلام میں نقصان اٹھانا جائز ہے اور نہ نقصان پہنچانا درست ہے”
اچھا اب اگر ہم وبا یا وائرس کی روک تھام میں ناکام ہوجائے اور وائرس پھیل جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ تو اس کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ جتنا ممکن ہوسکےہمیں بعض احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنے آپ اور دوسروں کو اس بیماری سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ ماسک پہننا، دوسروں کی مدد کرنا، دوائی یا ویکسین بنانے کی کوشش کرنا اور خلوص دل کے ساتھ بیماروں کی عیادت اور خدمت کرنا ، خلاصہ یہ کہ اسلام نے ہر اس نیک کام میں پہل کرنے اور تعاون کرنے کی سفارش کی ہے جو خدا کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے اور یہ جذبہ صرف متقی اور پرہیزگار لوگوں میں ہی پائے جاتے ہیں ، جیسا کہ قرآن مجید کے سورہ مبارکہ مائدہ کی دوسری آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
“اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔”
یعنی اللہ تعالیٰ معاشرے میں انسان کے ہر اس تعاون کو پسند فرماتا ہے جو اسلامی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتے ہیں یا معاشرے کے مسائل حل یا کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ہی پروردگار نے ہمیں ہر اس کام سے منع فرمایا ہے جو معاشرے میں مسائل ایجاد کرتے ہیں اور معاشرے کو فساد اور بے راہ روی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
اس حوالے سے ا ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس جو انسانوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش میں رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے پناہ اجر رکھتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن کا وعدہ ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی ہے۔ اس بات کی تائید سورہ مبارکہ مائدہ کی 32ویں آیت بھی کرتی ہے کہ:
“اسی سبب سے، ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے کے بٍغیر یا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی، اور ہمارے رسول ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔”
دنیائے فارسی کے مشہور شاعر شیخ سعدی نے کیا خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ:
بنی آدم اعضائے یک دیگرند
کہ در آفرینش ز یک جوہرند
چوں عضوی بدرد آورد روزگار
دگر عضوھا را نماند قرار
توکہ از محنت دیگران بی غمی
نشاید کہ نامت نھد آدمی
یعنی بنی آدم کا آپس میں تعلق جسم کے اعضا کا طرح ہے، کیونکہ اُن کی پیدائش ایک ہی جو ہر(حضرت آدم علیہ السلام) سے ہے،جب زمانہ اُس کے جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچاتی ہے تو اُس کے دوسرے اعضا بھی بے چین ہوجاتے ہیں، اگر تو دوسرے لوگوں کی تکلیف سے بے غم ہے تو تو انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے۔(گلستانِ سعدیؒ)

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.